ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / خلیجی خبریں / حیدر آباد دھماکہ : تمام مسلم نوجوان 12سال بعد باعزت بری ، عدالت نے کہا کہ ’’پولیس اتنے طویل عرصے میں ایک بھی ثبوت نہیں لاسکی‘‘

حیدر آباد دھماکہ : تمام مسلم نوجوان 12سال بعد باعزت بری ، عدالت نے کہا کہ ’’پولیس اتنے طویل عرصے میں ایک بھی ثبوت نہیں لاسکی‘‘

Fri, 11 Aug 2017 02:27:03    S.O. News Service

حیدر آباد :11؍اگست (ایس او نیوز /آئی این این ) حیدر آباد 2005ء میں محکمہ پولیس کی ایک عمارت میں ہونے والے خود کش بم دھماکہ کیس میں جمعرات کو حیدر آباد کی میٹرو پولیٹن سیشن عدالت نے تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے اس معاملے میں گرفتار کئے گئے 10 مسلم نوجوانوں کو نہ صرف باعزت بری کردیا بلکہ اس معاملے میں پولیس کی سخت سرزنش بھی کی ۔ عدالت نے پولیس کی سخت سرزنش کرتے ہوئے سوال کیا کہ اتنے برس ہوگئے لیکن پولیس کسی بھی ایک ملزم کے خلاف بھی ثبوت جمع نہیں کرسکی ۔اسی وجہ سے عدالت نے ثبوتوں کے فقدان کا حوالہ دیتے ہوئے تمام مسلم نوجوانوں کو رہا کردیا۔ واضح رہے کہ اس معاملہ میں ایک مسلم نوجوان ضمانت پر رہاتھا جبکہ بقیہ 9جیل میں ہی تھے ۔ 
اس معاملے میں ایس آئی ٹی نے تفتیش کرتے ہوئے مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیاتھا۔ واضح رہے کہ حیدر آباد کے بیگم پیٹ علاقے میں 12؍اکتوبر 2005ء کو پولیس دفتر میں ایک بنگلہ دیشی خود کش حملہ آور کی طرف سے دھماکہ کیاگیا تھا جس میں ایک ہوم گارڈ کی موت ہوگئی تھی ۔ جبکہ ایک دوسرا شخص زخمی ہوگیاتھا۔ خصوصی تفتیشی ٹیم (ایس آئی ٹی ) نے دعویٰ کیاتھا کہ اس حملے کے پیچھے بنگلہ دیشی تنظیم حرکت الجہاد اسلامی کا ہاتھ تھا ۔ خود کش حملہ آور کی شناخت حرکت الجہاد کے رکن ڈالن کے طورپر کی گئی تھی ۔ ایس آئی ٹی نے اس معاملے میں تفتیش کرتے ہوئے محمد زاہد ، عبدالکلیم ، شکیل ، سید حاجی ، اجمل خان ، عظمت علی ، محمود بارود والا، شائق عبدالخواجہ ، نفیس بسواس اور بنگلہ دیشی شہری بلال الدین کو گرفتار کرکے ان کے خلاف چارج شیٹ داخل کی جبکہ 3کے بارے میں بتایا کہ وہ حادثات میں مارے جاچکے ہیں اور 7اب بھی فرار ہیں ۔ اس معاملے میں پہلے دن سے یہی کہاجارہاتھا کہ جن افراد کو گرفتار کیاگیا ہے وہ اصل مجرم نہیں ہیں لیکن ایس آئی ٹی کی جانب سے اس تعلق سے کوئی فریاد نہیں سنی گئی ۔
ادھر نامپلی کی عدالت نے جمعرات کو جب یہ فیصلہ سنایا اور کہا کہ استغاثہ ملزمین کے خلاف شواہد پیش کرنے میں ناکام رہاہے تو کمرہ عدالت میں موجود ان نوجوانوں کے رشتے داروں نے خوشی کے مارے نعرے بلند کئے ۔ حالانکہ جج نے انہیں خاموش کرادیا اور اس کے بعد پولیس کی سخت سرزنش کرتے ہوئے اس معاملے میں ثبوت نہ جٹاپانے کی اس کی کمزوری کو نشانہ بنایا ۔ واضح رہے کہ یہ فیصلہ تقریباً 12سال بعد آیا۔ پولیس نے 20 افراد کو ملزم بنایاتھا جن میں سے اب تک تین کی موت ہوگئی ہے ۔ عدالت نے 10نوجوانوں کو بے گناہ قرار دیا۔ اس بم دھماکہ میں پولیس کا ایک ہوم گارڈ ستیہ نارائن اور بنگالی شہری دلان ہلاک ہوگئے تھے ۔ پولیس نے ان نوجوانوں کو مختلف علاقوں سے گرفتار کیاتھا اور ان پر مختلف تاریخوں میں مقدمہ چلایاگیا۔ اس دوران بھی وکلائے دفاع یہی کہتے رہے کہ مذکورہ نوجوان بے قصور ہیں لیکن ان کی ایک نہ سنی گئی ۔ عدالت کے باہر میڈیا ہجوم دیکھاگیا ،جو کہ وہ اس معاملے کے کوریج کے لیے وہاں پہنچاتھا۔ جیسے ہی عدالت کا فیصلہ آیا اور باہر موجود میڈیا کے نمائندوں کو معلوم ہوا ،تلنگانہ کے تقریباً ہر چینل پر بریکنگ نیوز چلائی جانے لگی۔ 
واضح رہے کہ پولیس نے اس بم دھماکہ کے لیے بنگلہ دیش کی حرکت المجاہدین نامی تنظیم کو ذمہ دار قرار دیاتھا۔ عدالت کے اس فیصلہ پر وکیل دفاع نے مسرت کا اظہارکرتے ہوئے اس فیصلہ کا استقبال کیا۔ بری ہونے والے نوجوانوں میں حیدر آباد سے زاہد ، عبدالکلیم ، شکیل ، عظمت علی ، خواجہ اور سید حاجی کا تعلق ہے جبکہ کولکاتہ سے ہلال ، نفیس بسواس اور دیگر ہیں ۔ عدالت کے اس فیصلہ پر وکیل دفاع نے مسرت کا اظہار کرتے ہوئے اس فیصلہ کا استقبال کیا ۔ اسی دوران اس بات کی اطلاعات مل رہی ہیں کہ استغاثہ اس فیصلہ کے خلاف حیدر آباد ہائی کورٹ سے رجوع ہونے پر غور کرہاہے ۔ 
بتادیں کہ ایس آئی ٹی نے یہ دعویٰ کیاتھا کہ خود کش حملے کا اصل سازشی محمد شاہد عرف بلال اور غلام یزدانی پاکستان اور دہلی میں مارے گئے ۔ ملزمین کے وکیل عبدالعظیم نے صحافیوں کو بتایا کہ عدالت نے ملزمین کو بری کردیا ہے ۔ کیونکہ استغاثہ ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا۔ دفاعی وکیل نے کہا کہ استغاثہ مکمل طورپر ایس آئی ٹی کے سامنے ملزمین کی طرف سے دیئے گئے اعترافی بیانات اور حالات پر منحصر تھا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس نے ملزمین کو بغیر کسی ثبوت کے گرفتار کیاتھا۔ اس لیے عدالت نے ان سب کو باعزت بری کردیا۔ بہر حال ان نوجوانوں کے اہل خانہ نے راحت کی سانس لی ہے اور عدالت کا شکریہ بھی ادا کیاہے کہ اس نے ان کے گھر کے چراغوں کو باعزت رہا کردیا۔ 


Share: